Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Jo Girtey Hain — cover art

Song lyrics

Jo Girtey Hain

📜 Lyrics

جو گِرتے ہیں وہی سِیکھتے ہیں جو روتے ہیں وہی ہَنستے ہیں زِندگی اُنہی کی کہانی ہے جو دَرد میں بِھی مُسکراتے ہیں اَندھیرے میں جو دِیپ جَلاتے ہیں آنسوؤں سے چِہرہ دَھوتے ہیں وہی ہیں جو روشن سِتارے بَتے ہیں وہی ہیں جو چَمکتے ہیں ہاں ہم ہیں وہی دِیوانے جو ہار میں بھی جِیت پَاتے ہیں سَب کُچھ لُٹا کر بھی خُواب نئے ہم تَاپ پاتے ہیں ہواؤں نے روکا ہے رَاستہ مگر ہم بادلوں کے پار جَاتے ہیں زمین پر لکیریں کَھینچنے والے ہم آسماں پر نام لِکھتے ہیں خوف کی زَنجیریں تَوڑ کر ہِمت کی مِشعل جَلا کر ہم اپنے راستے پہ چلتے ہیں دِل کی آواز سے جِیت جاتے ہیں زمانہ کہتا ہے رُک جاؤ یہیں پر ہم دریا ہیں، بَہتے جاتے ہیں پَتھروں کے سِینے کو چِیر کر اپنا راستہ خود بناتے ہیں ہاں ہم ہیں وہی دِیوانے جو ہار میں بھی جِیت پاتے ہیں سَب کچھ لُٹا کر بھی خُواب نئے ہم تاپ پَاتے ہیں

💡 Meaning & story

نظم: ہم ہیں وہی دیوانے (تشریح و مفہوم) مرکزی خیال: یہ نظم انسانی عزم، حوصلے اور مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ناکامی، دکھ اور اندھیرا زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ کامیابی اور روشنی کی پہلی سیڑھی ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو حالات سے ہار ماننے کے بجائے ان سے لڑنا سیکھتے ہیں۔ ________________________________________ بند وار تشریح: پہلا حصہ: گرنا اور سنبھلنا "جو گرتے ہیں وہی سیکھتے ہیں، جو روتے ہیں وہی ہنستے ہیں..." • مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ زندگی میں ٹھوکر کھائے بغیر کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا۔ آنسو انسان کو اندر سے مضبوط کرتے ہیں اور وہی شخص حقیقی خوشی کا حقدار ہے جس نے غم کا ذائقہ چکھا ہو۔ مسکراہٹ کی اصل قدر وہی جانتا ہے جس نے درد میں مسکرانا سیکھا ہو۔ دوسرا حصہ: تاریکی سے روشنی تک "اندھیرے میں جو دیپ جلاتے ہیں، آنسوؤں سے چہرہ دھوتے ہیں..." • مفہوم: یہ بند امید کی علامت ہے۔ جب چاروں طرف مایوسی کا اندھیرا ہو، تو ہمت کا دیا روشن کرنا ہی عظمت ہے۔ جو لوگ اپنے دکھوں (آنسوؤں) کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں، وہی دنیا کے سامنے روشن ستارے بن کر چمکتے ہیں۔ تیسرا حصہ: عزمِ جواں اور کامیابی "ہواؤں نے روکا ہے راستہ مگر، ہم بادلوں کے پار جاتے ہیں..." • مفہوم: یہاں بلند پروازی کا ذکر ہے۔ حالات کی ہوائیں کتنی ہی مخالف کیوں نہ ہوں، جن کے ارادے پختہ ہوں وہ زمین کی لکیروں کے پابند نہیں رہتے بلکہ آسمانوں پر اپنی کامیابی کی داستان لکھتے ہیں۔ چوتھا حصہ: ہار میں جیت کا فلسفہ (کورس) "ہاں ہم ہیں وہی دیوانے، جو ہار میں بھی جیت پاتے ہیں..." • مفہوم: یہ نظم کا دل ہے۔ 'دیوانہ' یہاں اس شخص کو کہا گیا ہے جو دنیا کی نظر میں ناکام ہو کر بھی ہمت نہیں ہارتا۔ سب کچھ لٹا کر بھی نئے خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھنا ہی اصل جیت ہے۔ پانچواں حصہ: مسلسل جدوجہد "تھکن کو ہم اپنا ہمسفر بنا کر، منزل کی جانب بڑھتے جاتے ہیں..." • مفہوم: تھکاوٹ کو کمزوری نہیں بلکہ سفر کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ ٹوٹے ہوئے آئینوں سے نئے آئینے بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ایک تخلیقی انسان بکھری ہوئی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اختتام: رکاوٹوں کو چیرنا "زمانہ کہتا ہے رک جاؤ یہیں، پر ہم دریا ہیں، بہتے جاتے ہیں..." • مفہوم: دریا کی خاصیت ہے کہ وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ زمانے کی مخالفت کے باوجود پتھروں جیسے سخت حالات کو چیر کر اپنی منزل تک پہنچنا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔