Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Badelta Khail — cover art

Song lyrics

Badelta Khail

📜 Lyrics

تَمَنَّا ہے کہ میں طاقَتْ وَر بَن کَر اُبھر جاؤں کَہِیں اَیسا نہ ہو آگازِ ہِجْرَت میں بِکھَر جاؤں میں چاہتَا ہوں کہ میری جُستُجُو کو پَر لَگ جائیں تیز اِتْنَا چَلوں کہ مَنْزِلوں کے قَرِیب تر جاؤں خطائیں کَرنے کو تو میری رَفتار ہی کافی تھی پَر نہ تھا وہ ہُنَر کہ عَذابوں سے مُکر جاؤں یہ دُنیا ایک بَدَلتا کھیل ہے، اِک فریبِ مُسَلْسَل ہے تھَک گیا ہوں کہ کَب تک اِس تماشے میں بِکھر جاؤں اب اِتنی سُوجھ بُوجھ تو آ گئی ہے مجھ میں اے دُنیا میں جِتنا بھی جیوں، آخِر کو مَٹّی میں اُتَر جاؤں وہ لَڑکپن کا زَمانہ، وہ نادانی اب کہاں باقی؟ کہ مَوت کو بُھول کر جینے کے خُوابوں میں سَنور جاؤں کَبھی جیت کی حَسْرَت، کبھی ہار جانے کا وہ ڈَر کَب تَک میں ایک فانی کھیل کے ڈَر سے ٹھہر جاؤں؟ میری تھکَن کا تَقاضا ہے کہ اب یہ کَھیل ختم ہو بڑا بَننے کی چاہ میں، میں نہ جانے کِدھر جاؤں خطائیں کَرنے کو تو میری رَفتار ہی کافی تھی پَر نہ تھا وہ ہُنَر کہ عَذابوں سے مُکر جاؤں یہ دُنیا ایک بَدَلتا کَھیل ہے، اِک فریبِ مُسَلْسَل ہے تھَک گیا ہوں کہ کَب تک اِس تماشے میں بِکھر جاؤں زندگی ایک کھیل ہے... فریبِ مُسَلْسَل ہے...

💡 Meaning & story

بول - طرز اور موسیقی محمد فاروق 2026 یہ گانا (Fickle Game - Amber Run) انسانی نفسیات کی ایک گہری الجھن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں جوانی اور تجربے کے درمیان پھنسے ہوئے ایک انسان کی بے چینی دکھائی گئی ہے۔ ذیل میں ان بولوں کا اردو ترجمہ اور ان کے پیچھے چھپے فلسفے کی تشریح پیش ہے: اردو ترجمہ میں اور بڑا ہونا چاہتا ہوں، میں اور مضبوط بننا چاہتا ہوں میں آغاز ہی میں گرنا نہیں چاہتا میں اور تیز ہونا چاہتا ہوں، میں قریب پہنچنا چاہتا ہوں میں خود کو دنیا سے الگ تھلگ (تنہا) محسوس نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میں اتنا تیز تو ہوں کہ مصیبت مول لے لوں، پر اتنا تیز نہیں کہ اس سے بچ نکلوں اور میں اتنا بوڑھا ہو چکا ہوں کہ جانتا ہوں کہ ایک دن مر جاؤں گا پر اب اتنا چھوٹا نہیں رہا کہ یہ سب دوبارہ بھول سکوں یہ سب ایک متلون مزاج (بدلتا ہوا) کھیل ہے، زندگی ایک متلون مزاج کھیل ہے جو ہم کھیلتے ہیں ________________________________________ تشریح اور مقصد (Explanation & Motive) اس گانے کے پیچھے بنیادی مقصد "عبوری دور" (Transition Phase) کی بے چینی کو بیان کرنا ہے۔ یہ ان لمحات کی کہانی ہے جب انسان نہ پوری طرح بچہ رہتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر پراعتماد بالغ بن پاتا ہے۔ 1. خود اعتمادی کی تلاش (Desire for Growth): گانے کا آغاز "بڑا اور مضبوط" بننے کی خواہش سے ہوتا ہے۔ یہ اس خوف کو ظاہر کرتا ہے کہ کہیں ہم زندگی کی دوڑ شروع ہوتے ہی ہمت نہ ہار جائیں۔ "قریب پہنچنے" کی تڑپ دراصل اپنی منزل یا اپنے پیاروں سے جڑنے کی خواہش ہے۔ 2. بے بسی کا اعتراف (The Paradox of Age): سب سے اہم حصہ وہ ہے جہاں شاعر کہتا ہے کہ وہ "مصیبت میں پڑنے جتنا تیز تو ہے پر نکلنے جتنا نہیں"۔ یہ ناتجربہ کاری اور جوش کے درمیان کے توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم اتنے بڑے تو ہو جاتے ہیں کہ غلطیاں کریں، لیکن اتنے سمجھدار نہیں ہوتے کہ ان کے نتائج سے بچ سکیں۔ 3. موت کا شعور (Awareness of Mortality): جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ زندگی لامتناہی ہے۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب ہمیں اپنی زندگی کے ختم ہونے کا احساس (Reality Check) ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب وہ اتنا نادان نہیں رہا کہ اس کڑوی حقیقت کو نظر انداز کر سکے۔ 4. زندگی بطور ایک "ناقابلِ اعتبار کھیل" (Fickle Game): "Fickle" کا مطلب ہے ایسی چیز جو پل بھر میں بدل جائے۔ زندگی کو ایک کھیل کہنا اس کی بے ثباتی کو ظاہر کرتا ہے۔ کبھی ہم جیتتے ہیں، کبھی ہارتے ہیں، اور اکثر اوقات ہم صرف اس کھیل کے اصول سمجھنے کی کوشش میں ہی وقت گزار دیتے ہیں۔ مجموعی پیغام: یہ گانا ایک پکار ہے اس انسان کی جو زندگی کی پیچیدگیوں سے تھک چکا ہے اور سادگی یا مکمل اختیار (Control) کی تلاش میں ہے۔ یہ اداسی اور حقیقت پسندی کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔