Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Tu Kon Hai — cover art

Song lyrics

Tu Kon Hai

📜 Lyrics

سب کہتے ہیں تُو کون ہے میں کہتا ہوں، یہ راز ہے تھوڑا سا آنسو تھوڑا سا ہنسنا آدھا سا خواب آدھا سا قصہ میں کون ہوں میں کیا ہوں خالی سا ظرف بھرا سا جنون میں کون ہوں میں کیا ہوں اِتنا قریب پھر بھی مُجھ سے دُور میں آئینہ بولا سچ تو بتا چہرہ بدلا دل وہی تھا سو بار جینے کی خواہش لے کر ہر موڑ پہ تھوڑا تھوڑا مِرا میں کون ہوں میں کیا ہوں خالی سا ظرف بھرا سا جنون میں کون ہوں میں کیا ہوں اِتنا قریب پھر بھی مجھ سے دور میں اِک پاسے سجدہ اِک پاسے خواہش اِک ہاتھ دُعا میں اِک ہاتھ میں آگ کہہ دے ذرا دِل تِیرا فیصلہ کیا تُو بھی میرا ہے یا میں بھی غیروں کا میں کون ہوں میں کیا ہوں خالی سا ظرف بَھرا سا جنون میں کون ہوں میں کیا ہوں اِتنا قریب پھر بھی مُجھ سے دُور میں میں کون ہوں میں کیا ہوں تُو ہی بتا دے مِیرا سرور تو ہی

💡 Meaning & story

نظم کی تشریح اور موضوع - Composed by: Mohammad Farooq مرکزی موضوع (Theme): اس نظم کا بنیادی موضوع "تلاشِ ذات" (Search for Self) اور انسانی شخصیت کے تضادات ہیں۔ یہ ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جو اپنی حقیقت، اپنی خواہشات اور اپنے رب کے درمیان توازن تلاش کر رہا ہے۔ پہلا بند (Verse 1): یہاں ایک راز داری کا احساس ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ میں کون ہوں، لیکن میری حقیقت آنسوؤں (غم) اور ہنسی (خوشی) کا مجموعہ ہے۔ یہ ادھورے خوابوں اور ادھورے قصوں کی ایک داستان ہے۔ کورس (Chorus): یہ نظم کا روح پرور حصہ ہے۔ "خالی سا ظرف، بھرا سا جنون" ایک زبردست تضاد ہے—یعنی ظاہری طور پر انسان خالی نظر آتا ہے مگر اندر جنون اور جذبات کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ یہ اپنے آپ سے دوری اور بیگانگی کا اظہار ہے۔ دوسرا بند (Verse 2): آئینہ سچ بولتا ہے، جو بدلتے ہوئے چہروں کے پیچھے چھپے مستقل دل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہاں زندگی کی تھکن اور ہر موڑ پر خود کو تھوڑا تھوڑا کھو دینے کا ذکر ہے۔ برج (Bridge): یہ حصہ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ یہ نیکی (سجدہ/دعا) اور بدی یا دنیاوی خواہش (آگ) کے درمیان جاری جنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان اپنے دل سے فیصلہ مانگ رہا ہے کہ وہ کس کا ہے؟