Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Mai Toh Bes Insaan Huun — cover art

Song lyrics

Mai Toh Bes Insaan Huun

📜 Lyrics

شایَد میں نادان ہوں، یا بصارَت کھو بَیٹھا ہوں دیکھنا چاہوں پار جِن کے، اِن دِیواروں میں اُلجھا ہوں کوئی دلِیل نہیں ہے پاس، کوئی ثبوت نہیں ہے شایَد میں ہی اندھا ہوں، یا عَقل سے کچھ کورا ہوں تُم جِس کو لافانی سَمجھے، وہ بھی ایک فسانہ ہے آج یہاں جو بَرپا ہے، کَل اِک یاد پُرانی ہے میں نے بھی ٹھوکر کھائی ہے، میں نے بھی آنسو پونچھے ہیں میرے اَندر بھی اِک گہرا، دُکھ کا اِک ویرانہ ہے میں تو بَس اِنساں ہوں، آخِر اِک اِنساں ہوں مجھ پہ اِلزام نہ دھرو، مجھ پہ تُہمَت نہ لگاؤ میں تو بَس اِنساں ہوں، مِٹّی کا اِک پُتلا ہوں مجھ پہ اِلزام نہ دھرو، مجھ پہ تُہمَت نہ لگاؤ آئینے میں خود کو دیکھو، کیا تُم پاتے ہو؟ سچائی سے مِلتے ہو، یا دھوکا کھاتے ہو؟ کچھ کے دُکھ ہیں سچّے، کچھ کی قِسمت ہاری ہے لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں، چارہ گِری مِری باری ہے مُجھ سے اُمیدیں مَت باندھو، میں کوئی کِیمیا گَر تو نہیں میں بھی اِسی بستی کا مُسافِر، میرا کوئی گھر تو نہیں خَطائیں کرنا میری جِبِلّت، عاجزی میرا گہنا ہے میں پَتھر کا کُلَّہ نہیں ہوں، میں کوئی مَنظر تو نہیں نہ میں کوئی پیغمبر ہوں، نہ میں کوئی مسیحا ہوں! گر ہے طلب ہدایت کی، تو دیکھو کہیں اونچا تُم! میں تو بَس اِک بندہ ہوں، جِتنا ہو سکے کرتا ہوں... میں تو بَس اِنساں ہوں... مجھ پہ اِلزام نہ دھرو... صرف اِک اِنساں...

💡 Meaning & story

خلاصہ : اس نظم میں ایک انسان کی عاجزی اور اس کی فطری کمزوریوں کو بیان کیا گیا ہے، جو دنیا کی بے جا توقعات اور الزام تراشیوں سے تھک چکا ہے۔ شاعر واشگاف الفاظ میں اعتراف کرتا ہے کہ وہ کوئی معجزہ دکھانے والا مسیحا یا لافانی ہستی نہیں، بلکہ گوشت پوست کا ایک ایسا انسان ہے جس سے خطائیں بھی ہوتی ہیں۔ وہ آئینے کے ذریعے لوگوں کو اپنی ذات میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنی انسانی جبلت کو پہچان سکیں۔ یہ کلام دراصل سماج کے ان کٹھن رویوں کے خلاف ایک پکار ہے جو کسی فرد کو اس کی بساط سے زیادہ بوجھ تلے دبا دیتے ہیں۔ آخر میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انسان صرف وہی کر سکتا ہے جو اس کے اختیار میں ہے، اس لیے اسے خدا یا فرشتہ سمجھ کر اس پر تہمتیں نہیں لگانی چاہئیں۔