💡 Meaning & story
मोहम्मद फारूक की पुनर्रचना
जैमिनी सरशार द्वारा लिखित 1904 - 1984
पहला शेर
बेहिजाब आपके आने की जरूरत क्या थी यूं मेरे होश उड़ाने की जरूरत क्या थी
• تشریح: شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تم اتنے پردے ہٹا کر (بے حجاب) سامنے کیوں آئے؟ تمہاری اس اچانک اور خوبصورت جلوہ گری سے میرے ہوش اڑ گئے ہیں، اتنی بڑی آزمائش میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی؟
دوسरा शेर
हम से कहना था डुबो देते सफ़ीना अपना इतने तूफ़ान उठाने की ज़रूरत क्या थी
• تشریح: شاعر کہتا ہے کہ اگر تم میری زندگی یا دل کی کشتی کو غرق ہی کرنا چاہتے تھے، تو مجھ سے ایک بار کہہ دیتے، میں خود ہی اسے ڈبو دیتا۔ اس کے لیے طوفان اٹھانے اور اتنی زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یعنی عاشق تو محبوب کے ایک اشارے پر سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔
तीसरा शेर
जब से आया हूँ यहाँ महर ब-लब बैठा हूँ मुझ को محفل میں بلانے کی ضرورت کیا تھی
• تشریح: یہاں شاعر اپنی خاموشی اور بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب سے میں اس محفل میں آیا ہوں، میرے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر لگی ہوئی ہے (میں کچھ بول نہیں پا رہا)۔ جب میں نے بالکل خاموش ہی رہنا تھا، تو مجھے اس محفل میں بلانے کا کیا فائدہ تھا؟
चौथा शेर
अपने किरदार व अमल पर जो भरोसा होता آپ کے ناز اٹھانے کی ضرورت کیا تھی
• تشریح: اس شعر میں عاجزی اور محبت کی بے بسی کا اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر ہمیں اپنے ہی کردار اور عمل پر مکمل بھروسہ ہوتا کہ ہم خود کو سنبھال لیں گے، تو ہمیں آپ کے ناز اٹھانے اور آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی۔
पाँचवा शेर
یوں بھی ہو سکتے تھے آباد ترے ویرانے ہم کو دیوانہ بنانے کی ضرورت کیا تھی
• تشریح: شاعر کہتا ہے کہ تیری محبت کا ویران نگر کسی اور طریقے سے بھی آباد ہو سکتا تھا، اس کے لیے مجھے محبت میں پاگل (دیوانہ) بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ عشق کی اس راہ میں عاشق کا دل و دماغ اجڑ جاتا ہے، جسے شاعر نے ایک گلے کی صورت میں بیان کیا ہے۔
छठा शेर (مقطع)
अश्क़-ए-खूं बाद में सरशारؔ बहाने थे अगर खून-ए-उश्शाक़ बहाने की जरूरत क्या थी
• تشریح: مطلع یا مقطع میں تخلص استعمال کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب! اگر آخرکار تم نے عاشقوں کے خون پر ہی پلنا تھا اور بعد میں آنکھوں سے خون کے آنسو ہی بہانے تھے، تو پھر پہلے سے اتنی تکلیف دے کر عاشقوں کا خون بہانے کی کیا ضرورت تھی؟ یعنی انجام کار رونا ہی تھا تو ابتدا ہی کیوں کی گئی۔
Lyrics & Meaning