Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Kise hijraton ka malal hai — cover art

Song lyrics

Kise hijraton ka malal hai

📜 Lyrics

جو گُزرگئی تیری یاد میں وہ ہی شام! شامِ وِصال ہے میرا خُواب تھا کسی روز تو میری مُنتظر یوں بَہار ہو جو اُٹھے نِگاہ جُھکی ہوئی میرے رُو بَا رُو رُخِ یار ہو وہ ہی یار کے وہ جِدھر چلے وہاں روشنی کا نزول ہو جو لِکھے وہ حرف مُجیب ہو جو دُعا کرے قبول ہو وہ شَگُفْتا گُل کے جِسے چُھوے وہ ہی شَاخ سبز گُلاب ہو جِسے سوچنے کی جزاء ملے جِسے دیکھنا بھی ثواب ہو اُسے شعری سے ہو گَر شَرف میرا لَہجَا مِثلے فراز ہو اُسے زاھِدَوں سے ہو پیار تو میری ہر قدم پے نماز ہو وہ جو خوشبُوں میں مِلے مُجھے میرا بس چمن ہی نِصاب ہو میری ہر دُعا میں ہوں تِتْلِیاں میری ہر غزل میں گُلاب ہو کبھی یوں بھی ہو وہ مُجھے کہے تیری سب دُعائیں قبول ہیں تیرے رَت جگے ہیں سُنے گے! تیرے خَار آج سے پُھول ہیں کبھی یوں بھی ہو سرے بزم وہ مُجھے یہ کہے غزل سُنا میں غزل غزل میں اُسے کہوں میرا کچھ نہیں ہے تیرے سِوا کوئی دم درود وہ کر کے جو میرے قلب وجان کو نِکھار دے کوئی دے دُعا مُجھے پیار سے جو میرے دو جہاں سوار دے

💡 Meaning & story

کلام کا مفصل خلاصہ اور فکری جائزہ - written by Mubarik Siddiqi یہ غزل محض ایک روایتی رومانوی کلام نہیں ہے، بلکہ یہ عشقِ مجازی (دنیاوی محبت) سے شروع ہو کر عشقِ حقیقی (روحانی محبت) اور وجدان کی سرحدوں کو چھوتی ہے۔ اس کا مفصل تفصیلی جائزہ کچھ یوں ہے: ہجر میں وصال کا پہلو: شاعر نے ابتدا ہی میں ہجر (جدائی) کی روایتی اداسی کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔ محبوب کی یاد اس قدر شدید، گہری اور دل نشین ہے کہ دوری کا احساس مٹ جاتا ہے اور تنہائی میں گزری ہوئی شام بھی بالکل ملن کی شام (شامِ وصال) کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ محبوب کا نورانی اور روحانی تصور: دوسرے اور تیسرے شعر میں محبوب کو ایک ایسی مثالی اور روحانی ہستی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کے وجود سے بہاریں وابستہ ہیں۔ وہ جدھر سے گزرے، وہاں "روشنی کا نزول" ہوتا ہے۔ محبوب کی زبان اور قلم میں ایسی تاثیر ہے کہ اس کی ہر دعا اور ہر حرف بارگاہِ الہیٰ میں قبولیت کا درجہ رکھتا ہے۔ عشق عبادت کے درجے پر: چوتھے شعر میں شاعر کا تخیل عروج پر ہے۔ محبوب کا لمس خشک شاخ کو بھی ہرا گلاب کر دیتا ہے۔ محبت اس قدر پاکیزہ ہے کہ محبوب کو محض سوچنے پر جزا ملتی ہے اور اس کا دیدار کرنا ثواب کا کام لگتا ہے۔ مکمل خود سپردگی (Surrender): پانچویں اور چھٹے شعر میں عاشق اپنے محبوب کی مرضی کے مطابق خود کو مکمل طور پر ڈھالنے کے لیے تیار ہے۔ اگر محبوب کو سخن وری پسند ہے تو وہ احمد فراز کی طرح عظیم شاعر بن جائے گا، اور اگر محبوب پرہیزگار اور زاہد ہے، تو عاشق کا ہر قدم نماز بن جائے گا۔ وہ اپنی ہر غزل، ہر دعا اور اپنی پوری دنیا (نصاب) کو محبوب کے رنگ میں رنگ دینا چاہتا ہے۔ امید اور صلے کی آرزو: ساتویں اور آٹھویں شعر میں ایک گہری امید چھپی ہے۔ شاعر ایک ایسے دن کا خواب دیکھتا ہے جب محبوب خود آ کر اس کی ریاضتوں کا صلہ دے، اور کہے کہ تمہارے رت جگے (جاگ کر گزاری ہوئی راتیں) رنگ لے آئے ہیں اور تمہارے دکھ (خار) اب پھول بن گئے ہیں۔ سرِ بزم وہ غزل کے پردے میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہے کہ "میرا کچھ نہیں ہے تیرے سوا"۔ ایک گہری دعا اور وجدان کی کیفیت: آخری شعر میں غزل اپنے نقطہ عروج پر پہنچتی ہے۔ عاشق کو اب صرف محبوب کی ایک ایسی روحانی دعا یا دم درود درکار ہے جو اس کے قلب و روح کو پاکیزہ کر دے اور اس کی دنیا اور آخرت (دو جہاں) دونوں سنوار دے۔ یہ ایک مکمل وجدانی اور 'Epiphany' کی سی کیفیت ہے۔