💡 Meaning & story
سامعین کے لیے اس نظم کا پیغام بہت سادہ اور دلکش ہے: - Shad Azimabadi 1846 - 1927
صبح کا منظر: شاعر گہری نیند سونے والوں کو آواز دے کر جگا رہا ہے کہ رات گزر چکی ہے اور صبح کی روشنی پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔ سورج نکلنے کی وجہ سے چاند کی چمک ماند پڑ گئی ہے اور ہر طرف اجالا پھیل رہا ہے۔
فطرت کی بیداری: صبح کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں، پھول خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ پرندے جاگ چکے ہیں؛ کوئل اور فاختہ (یاہو) اپنے مخصوص اور میٹھے انداز میں گیت گا رہے ہیں۔ درختوں کی شاخوں پر پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی ہے، باغوں میں کلیاں کھل گئی ہیں اور نہریں بہہ رہی ہیں۔ جانور، جیسے گائیں اور بھینسیں، بھی گھاس چرنے نکل آئے ہیں۔
نصیحت اور پیغام: آخر میں شاعر ایک بچے "احمد" کا نام لے کر (جو کہ استعاراتی طور پر ہر نوجوان یا قاری کے لیے ہے) اسے کہتا ہے کہ بستر چھوڑو، منہ ہاتھ دھو کر کپڑے پہنو اور باہر نکل کر میدانوں اور باغوں کی سیر کرو۔ نظم کا اختتام اس خوبصورت نصیحت پر ہوتا ہے کہ "وقت کو کھونا یا ضائع کرنا اپنے اوپر ظلم کرنے کے مترادف ہے"۔
Lyrics & Meaning