Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Lost People — cover art

Song lyrics

Lost People

📜 Lyrics

وہ ساحِلوں پہ گانے والے کیا ہوئے وہ کِشتِیاں چلانے والے کیا ہوئے وہ صُبح آتے آتے رہ گئی کہاں جو قافِلے تھے آنے والے کیا ہوئے مَیں ان کی راہ دیکھتا ہُوں رات بھر وہ روشنی دِکھانے والے کیا ہوئے یہ کون لوگ ہیں مِیرے اِدھر اُدھر وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے وہ دِل میں کھُبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں وہ ہونٹ مُسکرانے والے کیا ہوئے عمارتیں تو جَل کے راکھ ہو گئیں عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے اکیلے گھر سے پُوچھتی ہے بے کسی تیرا دِیا جلانے والے کیا ہوئے یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اُٹھانے والے کیا ہوئے گلی کے موڑ پر کھڑی ہے خاموشي وہ شور اب مچانے والے کیا ہوئے خزاں کی زد میں آ گئے ہیں سب شجر بہار کو بُلانے والے کیا ہوئے وہ جِن کی گُفْتگو سے پُھول جھڑتے تھے وہ مِحفلیں سجانے والے کیا ہوئے کہیں سے کوئی دَسْتَکْ اب سُنائی دے وہ در میرا کھٹکھٹانے والے کیا ہوئے بُھلا دِیا ہے وقت نے جِن کا پتا وہ نام یاد دِلانے والے کیا ہوئے نظر میں اب وہ وہم ہے نہ خُواب ہے وہ جادو اب جگانے والے کیا ہوئے یہ دِل ہے اب مزار سا بنا ہوا وہ اِس میں اب ٹھکانے والے کیا ہوئے ناصرؔ وہ جن کے دم سے تھی یہ زندگی وہ زندگی لُٹانے والے کیا ہوئے کیا ہوئے... کیا ہوئے

💡 Meaning & story

ناصر کاظمی کی غزل: تشریح و وضاحت وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے تشریح: شاعر ماضی کے ان لوگوں کو یاد کر رہا ہے جو زندگی کی رونق تھے۔ "ساحلوں پہ گانے والے" خوشی اور فن کی علامت ہیں، جبکہ "کشتیاں چلانے والے" محنت اور جدوجہد کی۔ شاعر پوچھتا ہے کہ وہ زندگی سے بھرپور لوگ اب کہاں کھو گئے؟ وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے تشریح: یہاں ایک ادھورے خواب اور سیاسی یا سماجی تبدیلی کا ذکر ہے۔ انسان کو جس روشن مستقبل (صبح) کی امید تھی، وہ کہیں راستے میں ہی کھو گئی۔ وہ لوگ جو بہتری کی امید لے کر نکلے تھے، ان کا کوئی پتا نہیں چل رہا۔ میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے تشریح: شاعر تنہائی اور اندھیرے (مشکلات) میں گھرا ہوا ہے اور ان رہنماؤں یا دوستوں کو پکار رہا ہے جو مشکل وقت میں راستہ دکھایا کرتے تھے۔ اب اسے دور دور تک کوئی راہبر نظر نہیں آتا۔ یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر ادھر وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے تشریح: یہاں موجودہ دور کی اجنبیت کا ذکر ہے۔ شاعر اپنے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ تو دیکھتا ہے، لیکن اسے ان میں وہ پرانے مخلص دوست نظر نہیں آتے جو تعلق نبھانا جانتے تھے۔ یہ سماجی بے حسی پر گہرا طنز ہے۔ وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے تشریح: یہ شعر حسن اور محبت کی یاد میں ہے۔ وہ چہرے جن کی کشش دل میں اتر جاتی تھی اور وہ مسکراہٹیں جو زندگی کا احساس دلاتی تھیں، اب وقت کی گرد میں چھپ گئی ہیں۔ عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے تشریح: یہ شعر شہروں کی بربادی (ممکنہ طور پر فسادات یا جنگ) کی طرف اشارہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مادی چیزیں (عمارتیں) تو تباہ ہوئیں سو ہوئیں، لیکن وہ ہنرمند اور باصلاحیت لوگ کہاں گئے جنہوں نے یہ سب تخلیق کیا تھا؟ اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے تشریح: گھر کی ویرانی کی اس سے بہتر تصویر کشی ممکن نہیں۔ خالی گھر کی خاموشی اور بے کسی یہ سوال کر رہی ہے کہ وہ لوگ جو اس گھر میں رونق لگاتے تھے اور امید کا چراغ جلاتے تھے، اب کیوں نہیں رہے۔ یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے تشریح: شاعر اپنے آپ کو اور اپنے دور کے لوگوں کو نکما اور بے مقصد قرار دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اصل لوگ تو وہ تھے جو دوسروں کا بوجھ اٹھاتے تھے اور زمین کو رونق بخشتے تھے، ہم تو بس زمین پر بوجھ بن کر جی رہے ہیں۔ ________________________________________ اضافی اشعار کی مختصر تشریح • گلی کے موڑ پر کھڑی ہے خامشی...: شہروں کا شور اب ڈراؤنی خاموشی میں بدل گیا ہے، کیونکہ وہ زندہ دل لوگ اب نہیں رہے۔ • خزاں کی زد میں آ گئے ہیں سب شجر...: معاشرے میں اب ٹھہراؤ اور مرجھاہٹ ہے، وہ لوگ جو بہار جیسی تازگی لاتے تھے، رخصت ہو گئے۔ • وہ جن کی گفتگو سے پھول جھڑتے تھے...: خوش کلام اور تہذیب یافتہ لوگوں کی کمی کا ذکر ہے، جن کی محفلوں میں بیٹھنا ایک اعزاز تھا۔ • یہ دل ہے اب مزار سا بنا ہوا...: آخر میں شاعر اپنے اندرونی حال کا بتاتا ہے کہ اس کا دل اب یادوں کا قبرستان بن چکا ہے، جہاں اب کوئی نیا ٹھکانہ بنانے والا نہیں رہا۔ ________________________________________ خلاصہ: یہ غزل ناصر کاظمی کے اس مخصوص کرب کی عکاسی کرتی ہے جو تقسیمِ ہند یا کسی بھی بڑی ہجرت کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس میں "گمشدہ لوگوں" کی تلاش ایک استعارہ ہے جو ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے اپنے پیاروں کو اور اپنی پرانی تہذیب کو کھو دیا ہو۔