Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Sahaaroon ki aadat — cover art

Song lyrics

Sahaaroon ki aadat

📜 Lyrics

اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی اب کے ہماری جنگ ہے خود اپنے آپ سے اب کے ہماری جنگ ہے خود اپنے آپ سے یعنی کہ جیت ہار کی وُقْعَت نہیں رہی اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی عادت اکیلے پَن کی جو پہلے عذاب تھی اب لُطف بن گئ ہے اذیت نہیں رہی اب لُطف بن گئ ہے اذیت نہیں رہی برسے گا ٹُوٹ ٹُوٹ کر ابرِ محبتاں ہم چیختے رہیں گے کہ حاجت نہیں رہی اِیک روز کوئی آئے گا لے کرکے فُرْصَتیں ایک روز ہم کہیں گے ضرورت نہیں رہی عادت اکیلے پَن کی جو پہلے عذاب تھی اب لُطف بن گئ ہے اذیت نہیں رہی اے دوست اب سہاروں کی عادت نہیں رہی تیری تو کیا کسی کی ضرورت نہیں رہی

💡 Meaning & story

Reimagine by Mohammad Farooq written by Nadia Gilani مرکزی خیال یہ غزل انسانی جذبات کے اس سفر کو بیان کرتی ہے جہاں انسان دل ٹوٹنے اور دوسروں پر انحصار کرنے کے بعد ایک مقام پر پہنچ کر خود کفیل ہو جاتا ہے اور اسے اپنی تنہائی میں ہی سکون ملنے لگتا ہے۔ اس میں مایوسی کے بجائے ایک طاقت اور بے نیازی کا احساس نمایاں ہے۔ اشعار کی تفصیلی تشریح • ابتدائی اشعار (مطلع): شاعر اپنے دوست یا محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اب اس نے دوسروں کے سہاروں پر جینا چھوڑ دیا ہے۔ اب اسے نہ تو اس دوست کے سہارے کی ضرورت رہی ہے اور نہ ہی دنیا میں کسی اور شخص کی۔ • پہلا شعر (اپنی ذات سے جنگ): شاعر کہتا ہے کہ اب اس کا مقابلہ دنیا یا کسی اور سے نہیں، بلکہ خود اپنے آپ سے ہے۔ جب انسان کا مقابلہ اپنی ہی ذات سے ہو تو پھر اس اندرونی کشمکش میں ہار یا جیت کی کوئی حیثیت (وُقْعَت) باقی نہیں رہتی۔ • دوسرا شعر (تنہائی کا لطف): اکیلے پن کا احساس جو آغاز میں ایک تکلیف دہ عذاب اور سزا معلوم ہوتا تھا، اب اس کی عادت ہو گئی ہے اور وہ ایک سکون اور لطف میں بدل گیا ہے۔ تنہائی اب کوئی اذیت نہیں دیتی۔ • تیسرا شعر (حاجت ختم ہونا): شاعر کہتا ہے کہ اگر اب محبت کے بادل ٹوٹ کر بھی برسیں (یعنی کوئی بے پناہ محبت بھی نچھاور کرے یا منانے کی کوشش کرے)، تب بھی ہم پکار کر یہی کہیں گے کہ ہمیں اب اس محبت کی کوئی طلب یا حاجت نہیں ہے۔ • چوتھا شعر (وقت کی اہمیت): یہ شعر وقت کی ستم ظریفی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب محبوب کے پاس وقت (فرصتیں) ہوگا اور وہ لوٹ کر آئے گا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی اور شاعر اسے صاف کہہ دے گا کہ اب اسے اس کی ضرورت نہیں رہی۔