Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Main apne aap ko — cover art

Song lyrics

Main apne aap ko

📜 Lyrics

میں اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہوں مگر یہ بات ابھی ماننے سے قاصر ہوں وہ ہر کسی پہ برابر کبھی نہیں کُھلتا سو جان کر بھی اُسے جاننے سے قاصر ہوں ابھی تو کارِ جہاں سے اُلجھ رہی ہوں میں یہ خاکِ دشتِ ابھی چھاننے سے قاصر ہوں کبھی کبھار جَفا کو بھی دل مچلتا ہے میں سر پہ ابرِ وفا تاننے سے قاصر ہوں تُو سچ کیساتھ ملاتا ہے جھوٹ باتوں میں تُجھے میں آئینہ گرداننے سے قاصر ہوں ابھی تو کارِ جہاں سے اُلجھ رہی ہوں میں یہ خاکِ دشتِ ابھی چھاننے سے قاصر ہوں میں اپنے آپ کو پہچاننے سے قاصر ہوں مگر یہ بات ابھی ماننے سے قاصر ہوں

💡 Meaning & story

غزل کا مفہوم اور مرکزی خیال- written by Komal Joya 1983 اس غزل کا مجموعی تاثر کشمکش (Conflict)، اعترافِ حقیقت اور اداس کیفیت (Melancholic vibe) پر مبنی ہے۔ • شناخت کا بحران: پہلے شعر میں شاعرہ اپنی ذات کی پہچان کھو دینے اور اس حقیقت کو تسلیم نہ کر پانے کی کشمکش کا شکار ہے۔ • محبوب کی پراسراریت: دوسرے شعر میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ محبوب (یا خدا) ہر کسی پر اپنے اسرار نہیں کھولتا، اس لیے اسے جان کر بھی مکمل طور پر سمجھنا ناممکن ہے۔ • دنیاوی اور عشقیہ تصادم: تیسرے شعر میں کارِ جہاں (دنیاوی مصروفیات) اور دشت کی خاک چھاننے (عشق کے کٹھن راستے) کے درمیان انتخاب کی مجبوری ظاہر کی گئی ہے (یہاں "رہی ہوں" سے شاعرہ کا نسوانی لہجہ بھی واضح ہے)۔ • انسانی کمزوریاں اور بے اعتباری: آخری دو اشعار میں اپنی بشری کمزوریوں کا اعتراف ہے (کبھی جفا کی طرف مائل ہونا) اور محبوب کے سچ اور جھوٹ کی ملاوٹ کی وجہ سے اس پر مکمل اعتبار نہ کر پانے کا شکوہ ہے۔