Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Gila Kisi Se Karein Kya — cover art

Song lyrics

Gila Kisi Se Karein Kya

📜 Lyrics

گِلَہ کسی سے کریں کیا، خطا کسی کی نہیں ہم سے ہی بھول ہوئی ، بے وفا کسی کی نہیں یہ اپنی اپنی خطاؤں کا بوجھ ہے ہمدم بِنا گُناہ کے یارو، سزا کسی کی نہیں میں آج زد پہ اگر ہوں، تو خوش گُمان نہ ہو چراغ سب کے بُجھیں گے، ہَوا کسی کی نہیں بھرَے ہیں زخم مگر، مُندمل نہیں ہوتے عجیب درد ہے، جس کی دوا کسی کی نہیں بدلتے رہتے ہیں موسم یہاں حکومت کے رہے گی دہر میں باقی، جفا کسی کی نہیں پُکارتے ہی رہے ہم، تمام شب لیکن سِواِ ہمارے یہاں پر، صدا کسی کی نہیں قضا کے سامنے چلتی ہے، کب بَھلا کوئی مُقَدْر کے آگے، دُعا کسی کی نہیں بہارِ زیست پہ اتنا غرور کیا کرنا چمن میں اِے مِرے ہمدم، بقا کسی کی نہیں تمام رِزق کا مالک، وہی خُدا ہے فقط عطا اُسی کی ہے ساری، عطا کسی کی نہیں اُسے خبر ہی نہیں، ناخُدا کہ طوفاں میں ڈبو کے ناؤ کو روئی، ہوا کسی کی نہیں میں آج زد پہ اگر ہوں، تو خوش گُمان نہ ہو چراغ سب کے بُجھیں گے، ہَوا کسی کی نہیں ہَوا کسی کی نہیں ۔۔۔ چراغ سب کے بُجھیں گے ۔۔۔ ہَوا کسی کی نہیں ۔۔۔

💡 Meaning & story

غزل کا مرکزی خیال اور تعارف Reimagine & composed by Muhammad Farooq یہ غزل انسانی زندگی کی بے ثباتی، حالات کے جبر، تنہائی اور مکافاتِ عمل کا ایک انتہائی خوبصورت اور درد بھرا نوحہ ہے۔ اس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ وقت اور حالات (جسے غزل میں "ہوا" کہا گیا ہے) کسی کے سگے نہیں ہوتے۔ آج جو عروج پر ہے، کل اسے بھی زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے انسان کو نہ تو اپنی طاقت پر غرور کرنا چاہیے اور نہ ہی دوسروں کی مجبوری یا بربادی پر خوش ہونا چاہیے۔ 📖 اشعار کی تفصیلی تشریح (مفہوم) گلہ کسی سے کریں کیا، خطا کسی کی نہیں ہمیں سے بھول ہوئی، بے وفا کسی کی نہیں تشریح: شاعر کہتا ہے کہ زندگی میں ملنے والے دکھوں اور دھوکووں پر میں کسی دوسرے سے کیا شکایت کروں؟ درحقیقت، اس میں کسی اور کا قصور نہیں، بلکہ یہ میری اپنی ہی سادگی اور بھول تھی کہ میں نے دنیا والوں سے وفاداری کی امید لگا لی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا کسی کی وفا دار نہیں۔ یہ اپنی اپنی خطاؤں کا بوجھ ہے ہمدم بنا گناہ کے یارو، سزا کسی کی نہیں تشریح: اس شعر میں مکافاتِ عمل کا ذکر ہے۔ ہم زندگی میں جو کچھ بھگتتے ہیں، وہ کہیں نہ کہیں ہمارے اپنے ہی فیصلوں اور اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ قدرت کا نظام نہایت انصاف پر مبنی ہے، یہاں کسی کو بھی بلاوجہ یا بغیر کسی غلطی کے دکھوں کی سزا نہیں ملتی۔ بھرے ہیں زخم مگر، مندمل نہیں ہوتے عجیب درد ہے، جس کی دوا کسی کی نہیں تشریح: انسان کے جسمانی زخم تو وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، لیکن جو چوٹیں روح اور دل پر لگتی ہیں، وہ کبھی پوری طرح ٹھیک (مندمل) نہیں ہوتیں۔ یہ ایک ایسا انوکھا اور گہرا درد ہے جس کا علاج دنیا کے کسی بھی طبیب یا مسیحا کے پاس موجود نہیں ہے۔ بدلتے رہتے ہیں موسم یہاں حکومت کے رہے گی دہر میں باقی، جفا کسی کی نہیں تشریح: یہ شعر دنیا کے طاقتور اور ظالم لوگوں کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں اقتدار اور طاقت کے موسم ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ آج جس کا زور ہے، کل وہ مٹی میں مل جائے گا۔ اس دنیا (دہر) میں کسی بھی ظالم کا ظلم (جفا) ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتا۔ پکارتے ہی رہے ہم، تمام شب لیکن سوا ہمارے یہاں پر، صدا کسی کی نہیں تشریح: اس شعر میں انتہائی گہری تنہائی اور بے بسی کا ذکر ہے۔ مشکل وقت کی تاریک رات میں، ہم درد اور تکلیف سے مدد کے لیے پکارتے رہے، لیکن پوری کائنات میں خاموشی چھائی تھی۔ ہماری اپنی آواز کے سوا پلٹ کر کوئی دلاسہ دینے والی آواز نہیں آئی۔ قضا کے سامنے چلتی ہے، کب بھلا کوئی مقدرات کے آگے، دعا کسی کی نہیں تشریح: موت (قضا) اور تقدیر ایک ایسی اٹل حقیقتیں ہیں جنہیں کوئی نہیں ٹال سکتا۔ جب اللہ کا حکم آ جاتا ہے اور مقدر کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے، تو پھر انسان کی کوئی بھی تدبیر یا دعا کام نہیں آتی۔ انسان قدرت کے فیصلوں کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ بہارِ زیست پہ اتنا غرور کیا کرنا چمن میں اے مرے ہمدم، بقا کسی کی نہیں تشریح: اے دوست! زندگی کی اس چند روزہ بہار، جوانی اور عیش و عشرت پر کیا تکبر کرنا؟ یہ دنیا ایک ایسے باغ (چمن) کی مانند ہے جہاں خزاں کو ضرور آنا ہے۔ یہاں پھولوں سے لے کر انسانوں تک، کسی بھی شے کو ہمیشگی (بقا) حاصل نہیں ہے۔ تمام رزق کا مالک، وہی خدا ہے فقط عطا اسی کی ہے ساری، عطا کسی کی نہیں تشریح: انسانوں کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو پال رہے ہیں یا انہیں کچھ دے رہے ہیں، لیکن حقیقت میں کائنات کے ہر ذرے کا رازق صرف اللہ کی ذات ہے۔ جو کچھ بھی ہمیں ملتا ہے، وہ خالصتاً اسی رب کی دین ہے، کسی اور انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ کسی کو کچھ عطا کر سکے۔ اسے خبر ہی نہیں، ناخدا کہ طوفاں میں ڈبو کے ناؤ کو روئی، ہوا کسی کی نہیں تشریح: کشتی چلانے والے (ناخدا) کو یہ معلوم ہی نہیں کہ جس ہوا کے سہارے وہ سفر کر رہا تھا، اسی ہوا نے طوفان بن کر اس کی کشتی ڈبو دی۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہوا کشتی کو غرق کرنے کے بعد اس پر روتی یا افسوس نہیں کرتی، کیونکہ فطرت بے رحم ہے اور یہ ہوا کسی کی دوست یا ہمدرد نہیں ہوتی۔ میں آج زد پہ اگر ہوں، تو خوش گمان نہ ہو چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں تشریح: یہ غزل کا سب سے مشہور اور طاقتور شعر ہے جو ایک آفاقی سچائی بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر آج گردشِ ایام یا حالات کا طوفان میرے خلاف ہے، تو تم میری اس بربادی پر خوش مت ہو۔ یاد رکھو! یہ حالات کی تیز ہوا جب اپنا رخ بدلے گی، تو ایک دن تمھارے غرور اور ہستی کے چراغ بھی بجھا دے گی، کیونکہ یہ ہوا کسی کی وفادار نہیں!