Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Kal Choudhvin Ki Raat — cover art

Song lyrics

Kal Choudhvin Ki Raat

📜 Lyrics

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے ہم ہنس دئیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ ترا اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا کوچے کو تیرے چھوڑ کر جوگی ہی بن جائیں مگر جنگل ترے پربت ترے بستی تری صحرا ترا ہم اور رسم بندگی آشفتگی افتادگی احسان ہے کیا کیا ترا اے حسن بے پروا ترا دو اشک جانے کس لیے پلکوں پہ آ کر ٹک گئے الطاف کی بارش تری اکرام کا دریا ترا اے بے دریغ و بے اماں ہم نے کبھی کی ہے فغاں ہم کو تری وحشت سہی ہم کو سہی سودا ترا ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہ گزر رستہ کبھی روکا ترا دامن کبھی تھاما ترا ہاں ہاں تری صورت حسیں لیکن تو ایسا بھی نہیں اک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا بے درد سننی ہو تو چل کہتا ہے کیا اچھی غزل عاشق ترا رسوا ترا شاعر ترا انشاؔ ترا

💡 Meaning & story

ابنِ انشاء کی غزل کا جامع مفہوم یہ مشہور و معروف اور سحر انگیز غزل اردو کے مایہ ناز شاعر ابنِ انشاء کی تخلیق ہے۔ اس کا مرکزی خیال محبوب کے لازوال حُسن کا اعتراف، عاشق کی بے لوث محبت، اور عشق میں ملنے والی دیوانگی کا انتہائی خوبصورت اور لطیف بیان ہے۔ حُسن کا چرچا اور عاشق کی خاموشی: عاشق بتاتا ہے کہ ہر طرف محبوب کے چاند جیسے چہرے کا چرچا ہے، لیکن وہ محبت کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے اور محبوب کے بھرم اور پردے کی خاطر محفل میں خاموش رہتا ہے تاکہ محبوب کی رسوائی نہ ہو۔ کائنات پر محبوب کا قبضہ: محبوب کی بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ وہ عاشق کی وارفتگی کی پرواہ نہیں کرتا۔ عاشق دنیا ترک کر کے جوگی بننا چاہتا ہے، لیکن اسے جنگل، پربت، صحرا اور بستی، غرض ہر جگہ صرف محبوب ہی کا راج اور جلوہ نظر آتا ہے، اس لیے فرار کی کوئی راہ نہیں۔ عاشق کی عاجزی اور محبوب کا ستم: عاشق اپنی شرافت کا واسطہ دے کر کہتا ہے کہ اس نے فقیرِ راہ گزر ہوتے ہوئے بھی کبھی محبوب کا راستہ نہیں روکا یا دامن نہیں تھاما، پھر بھی اس پر سختی کی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ مقطع کا حسین طنز: آخر میں شاعر ایک انتہائی دلکش اور چلبلا طنز کرتا ہے کہ اے محبوب! تو یقیناً حسین ہے، لیکن تیرے حسن کو یہ عالمگیر شہرت اور دوام دراصل تیرے اس دیوانے شاعر (ابنِ انشاء) کی لازوال شاعری ہی کی بدولت ملا ہے۔