Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Dastoor Habib Jalib — cover art

Song lyrics

Dastoor Habib Jalib

📜 Lyrics

دِیپ جِس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پَلے ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظُلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا پُھول شاخوں پہ کِھلنے لگے تم کہو جام رِندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سِینوں کے سِلنے لگے تم کہو اُس کُھلے جھوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تم نے لُوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

💡 Meaning & story

نظم کا تاریخی پس منظر (کب، کیوں اور کس سلسلے میں لکھی گئی؟) یہ نظم عوامی شاعر حبیب جالب نے 1962ء میں لکھی تھی۔ اس وقت پاکستان میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے مارشل لاء کے بعد ایک نیا آئین (دستور) متعارف کروایا تھا جس میں تمام تر اختیارات ایک ہی فرد کے پاس مرتکز کر دیے گئے تھے اور عوام کے بنیادی جمہوری حقوق سلب کر لیے گئے تھے۔ حبیب جالب نے اس آمرانہ نظام اور اس "دستور" کو ماننے سے صاف انکار کر دیا اور لاہور کے موچی دروازے کے ایک بڑے جلسے میں یہ نظم پہلی بار پڑھی۔ یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ راتوں رات عوام کی زبان پر آ گئی اور آج تک ہر اس دور میں گائی اور پڑھی جاتی ہے جب ظلم یا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہو۔ اشعار کی مفصل تشریح (سامعین کے لیے) پہلا بند: دِیپ جِس کا محلات ہی میں جلے، چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پَلے، ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تشریح: حبیب جالب اس نظام پر تنقید کر رہے ہیں جس کا فائدہ صرف اشرافیہ اور امیر لوگوں تک محدود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا نظام جس کا "چراغ" صرف محلات میں روشنی دیتا ہو اور جو صرف چند طاقتور لوگوں کی خوشیوں کا ضامن ہو، وہ مجھے قبول نہیں۔ ایسا آئین جو مصلحتوں اور دروغ گوئی کے سائے میں پروان چڑھا ہو، میرے نزدیک وہ روشنی نہیں بلکہ ایک "صبحِ بے نور" (تاریک صبح) ہے۔ میں ایسے ہر نظام اور قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ دوسرا بند: میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے، میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے، ظُلم کی بات کو جہل کی رات کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تشریح: شاعر اپنے بے خوف ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے پھانسی کے پھندے (تختۂ دار) سے کوئی ڈر نہیں لگتا۔ "منصور" سے مراد مشہور صوفی بزرگ منصور حلاج ہیں جنہوں نے حق (انا الحق) کا نعرہ لگایا اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا۔ جالب کہتے ہیں کہ میں بھی حق بولنے والا منصور ہوں، میرے دشمنوں سے کہہ دو کہ مجھے جیل (زنداں) کی کوٹھریوں اور دیواروں سے ڈرانا چھوڑ دیں۔ میں ظلم کی کسی بات اور جہالت کی اس اندھیری رات کے آگے جھکنے والا نہیں۔ تیسرا بند: پُھول شاخوں پہ کِھلنے لگے تم کہو، جام رِندوں کو ملنے لگے تم کہو چاک سِینوں کے سِلنے لگے تم کہو، اُس کُھلے جھوٹ کو ذہن کی لُوٹ کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تشریح: اس بند میں حکومت کے جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈے پر طنز کیا گیا ہے۔ حاکمِ وقت عوام کو یہ تاثر دے رہا تھا کہ ملک میں بڑی خوشحالی آ گئی ہے اور سب کچھ ٹھیک ہے۔ جالب کہتے ہیں کہ تمہارے کہنے سے کیا ہوتا ہے کہ "شاخوں پر پھول کھل رہے ہیں" یا "عوام کے زخم بھر رہے ہیں"؟ یہ سب محض ایک کھلا جھوٹ ہے اور عوام کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے کی ایک سازش (ذہن کی لوٹ) ہے۔ تم لاکھ دعوے کرو، مگر میں تمہارے اس جھوٹ کو ہرگز نہیں مانتا۔ چوتھا بند: تم نے لُوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں، اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں، تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا تشریح: نظم کے اختتام پر جالب جابر حکمرانوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم نے اور تمہارے جیسے طبقات نے صدیوں سے غریب عوام کا سکون برباد کیا ہے۔ لیکن اب مزید تمہارا جادو (فسوں) ہم پر نہیں چلے گا۔ تم ہمارے ہمدرد اور علاج کرنے والے (چارہ گر) بننے کا ڈرامہ کیوں کرتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم ظالم ہو، مسیحا نہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی تمہاری ان چکنی چپڑی باتوں میں آ جائے، لیکن میں تمہیں ہرگز اپنا مسیحا نہیں مانتا۔ سامعین کے لیے پیغام کا خلاصہ (Presentation Note) "یہ محض ایک گیت نہیں، بلکہ حق اور سچ کی وہ توانا آواز ہے جس نے اپنے وقت کے سب سے بڑے آمر کی نیندیں اڑا دی تھیں۔ اس نغمے کے ذریعے ہم اس بے خوف جذبے کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جو ظلم، جبر اور ناانصافی کے سامنے سینہ سپر ہو جاتا ہے۔ مشرقی اور مغربی سازوں کی ہم آہنگی میں ڈھلا یہ کلام، آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا 1962 کی اس رات کو تھا جب یہ پہلی بار پڑھا گیا۔"