Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Sooli — cover art

Song lyrics

Sooli

📜 Lyrics

سنا ہے تم نے اپنے آخری لمحوں میں سمجھا تھا کہ تم میری حفاظت میں ہو میرے بازوؤں میں ہو سنا ہے بجھتے بجھتے بھی تمہارے سرد و مردہ لب سے ایک شعلہ شعلۂ یاقوت فام و رنگ و امید فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا ہمیں خود میں چھپا لیجے یہ میرا وہ عذاب جاں ہے جو مجھ کو مرے اپنے خود اپنے ہی جہنم میں جلاتا ہے تمہارا سینۂ سیمیں تمہارے بازوان مرمریں میرے لیے مجھ اک ہوس ناک فرومایہ کی خاطر ساز و سامان نشاط و نشۂ عشرت فزونی تھے مرے عیاش لمحوں کی فسوں گر پر جنونی کے لیے صد لذت آگیں صد کرشمہ پر زبونی تھے تمہیں میری ہوس پیشہ مری سفاک قاتل بے وفائی کا گماں تک اس گماں کا ایک وہم خود گریزاں تک نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں کوئی ہوتا کوئی تو ہوتا جو مجھ سے مری سفاک قاتل بے وفائی کی سزا میں خون تھکواتا مجھے ہر لمحے کی سولی پہ لٹکاتا مگر فریاد کوئی بھی نہیں کوئی دریغ افتاد کوئی بھی مجھے مفرور ہونا چاہیے تھا اور میں سفاک قاتل بے وفا خوں ریز تر میں شہر میں خود وارداتی شہر میں خود مست آزادانہ پھرتا ہوں نگار خاک آسودہ بہار خاک آسودہ

💡 Meaning & story

یہ نظم اردو ادب کے عظیم انقلابی اور رومانوی شاعر جون ایلیا کی شاہکار نظموں میں سے ایک ہے۔ اس کا عنوان عام طور پر "اعتراف" یا "شرمندگی" کے تصورات کے گرد گھومتا ہے۔ یہ ایک ایسی نظم ہے جو ضمیر کی خلش، پچھتاوے اور ایک خود غرض عاشق کی سفاکی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ________________________________________ نظم کا مرکزی خیال (Theme) اس نظم کا بنیادی موضوع "احساسِ جرم" (Guilt) ہے۔ شاعر ایک ایسی لڑکی کو مخاطب کر رہا ہے جو اب اس دنیا میں نہیں رہی (خاک آسودہ ہے)۔ وہ لڑکی مرتے دم تک شاعر کو اپنا محافظ اور سچا ہمدرد سمجھتی رہی، جبکہ شاعر جانتا ہے کہ وہ صرف اپنی ہوس اور عیاشی کے لیے اس سے محبت کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ یہ نظم ایک "سفاک قاتل" کی طرف سے اپنے مقتول (محبوبہ) کو دیا گیا وہ خراجِ عقیدت ہے جو آنسوؤں سے نہیں بلکہ پچھتاوے کے زہر سے بھرا ہوا ہے۔ ________________________________________ بند وار تشریح (Detailed Explanation) 1. آخری لمحات کا دھوکہ سنا ہے تم نے اپنے آخری لمحوں میں سمجھا تھا... ایک شعلہ شعلۂ یاقوت فام و رنگ و امید فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا شاعر کہتا ہے کہ مجھے خبر ملی ہے کہ جب تم جان دے رہی تھیں، تب بھی تمہیں مجھ پر کامل بھروسہ تھا۔ تم نے سمجھا کہ تم میری پناہ میں ہو، میرے بازو تمہاری حفاظت کر رہے ہیں۔ تمہارے مرجھائے ہوئے لبوں پر موت کے وقت بھی زندگی کی امید اور مجھ سے وابستہ وفا کی ایک چمک (شعلہ یاقوت فام) موجود تھی۔ • نکتہ: یہاں المیہ یہ ہے کہ محبوبہ جسے "نجات دہندہ" سمجھ رہی تھی، وہی اس کی بربادی کا اصل ذمہ دار تھا۔ 2. ضمیر کا عذاب ہمیں خود میں چھپا لیجے... مرے اپنے خود اپنے ہی جہنم میں جلاتا ہے شاعر اس بوجھ کو سہہ نہیں پا رہا۔ وہ التجا کرتا ہے کہ اسے کہیں چھپا لیا جائے۔ وہ اپنے ہی وجود کو ایک "عذابِ جاں" قرار دیتا ہے۔ وہ کسی بیرونی جہنم کا محتاج نہیں، بلکہ اس کا اپنا ضمیر اور اس کی اپنی یادیں اسے ایک ایسے جہنم میں جلا رہی ہیں جہاں سے فرار ممکن نہیں۔ 3. ہوس اور محبت کا فرق تمہارا سینۂ سیمیں... صد لذت آگیں صد کرشمہ پر زبونی تھے یہاں شاعر بہت تلخ اعتراف کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تمہارا خوبصورت جسم (سینۂ سیمیں، بازوانِ مرمریں) میرے لیے کبھی "محبت" کا استعارہ نہیں تھے۔ میں ایک "ہوس ناک فرومایہ" (نیچ اور شہوت پرست) انسان تھا جس کے لیے تم صرف عیاشی کا سامان اور لذت حاصل کرنے کا ذریعہ تھیں۔ میں نے تمہاری روح سے کبھی پیار نہیں کیا، صرف تمہارے جسم سے اپنی وحشت مٹائی۔ 4. محبوبہ کی معصومیت اور شاعر کی سفاکی تمہیں میری ہوس پیشہ... کیوں نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں شاعر حیرت اور دکھ کا اظہار کرتا ہے کہ تم اتنی سادہ اور معصوم کیوں تھیں؟ تمہیں میری بے وفائی اور میری قاتلانہ فطرت کا وہم تک کیوں نہ ہوا؟ وہ بار بار سوال کرتا ہے "کیوں نہیں تھا؟" کیونکہ اگر محبوبہ کو اس کی اصلیت معلوم ہو جاتی تو شاید شاعر کو آج اتنا شدید پچھتاوا نہ ہوتا۔ 5. سزا کی تمنا کوئی ہوتا کوئی تو ہوتا... مجھے ہر لمحے کی سولی پہ لٹکاتا شاعر چیخ رہا ہے کہ کاش اس دنیا میں کوئی انصاف کرنے والا ہوتا جو مجھے میری اس "سفاک بے وفائی" کی سزا دیتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے سولی پر لٹکایا جائے، اس سے خون تھکوایا جائے (سخت ترین سزا دی جائے)۔ وہ اپنے آزاد گھومنے کو اپنی سب سے بڑی توہین سمجھتا ہے۔ 6. انجامِ بد اور ادھورا پن مگر فریاد کوئی بھی نہیں کوئی... شہر میں خود مست آزادانہ پھرتا ہوں شاعر کہتا ہے کہ افسوس! نہ کوئی فریاد کرنے والا ہے اور نہ کوئی انصاف کرنے والا۔ میں نے ایک معصوم کی زندگی تباہ کر دی، اسے مٹی تلے سلا دیا (نگارِ خاک آسودہ)، اور خود اس شہر میں کسی "وارداتی" (مجرم) کی طرح دندناتا پھر رہا ہوں۔ اسے اپنی آزادی سے نفرت ہو رہی ہے۔ لہجہ: نظم کا لہجہ اعترافی (Confessional) اور شدید کرب ناک ہے۔ جون ایلیا کا اسلوب: انہوں نے "ہوس" اور "سفاکی" جیسے الفاظ استعمال کر کے رومانوی شاعری کے روایتی لبادے کو چاک کر دیا ہے۔ مشکل الفاظ کے معنی: یاقوت فام: سرخ رنگ کا، چمکدار۔ فرومایہ: کمینہ، پست فطرت۔ خاک آسودہ: مٹی میں دفن، مرحومہ۔ دریغ افتاد: افسوسناک واقعہ یا کمی۔ نتیجہ: یہ نظم صرف ایک ناکام محبت کی کہانی نہیں ہے، بلکہ انسانی نفسیات کے اس تاریک پہلو کی عکاسی ہے جہاں انسان اپنے فائدے کے لیے دوسرے کے خلوص کا قتل کر دیتا ہے اور پھر ساری زندگی اس کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔